Skip to content

اللہ تعالی کے نام کے ساتھ شروع کیا ہوا ہر کام اللہ تعالی کی رضا کے ساتھ مکمل ہوتا ہے

ہر اہم کام کے شروع میں “بسم اللہ الرحمٰن الرحیم” پڑھنا سنت ہے، حدیث شریف میں وارد ہے کہ جو بھی اہم کام “بسم اللہ الرحمٰن الرحیم” کے بغیر شروع کیا جائے تو وہ ناقص اور بے برکت ہوتا ہے، یعنی جس کام کے شروع میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھ لی جائے تو وہ کام بابرکت ہونے کی وجہ سے پایہ تکمیل تک پہنچ جاتا ہے۔

ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک صحابی فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سواری پر سوار تھا تو آپ ﷺ کی اونٹنی ذرا پھسلی تو میں نے کہا شیطان کا ستیاناس ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ نہ کہو کہ شیطان کا ستیاناس ہوجائے، کیوں کہ ایسا کہنے سے شیطان خوشی سے اتنا پھولتا ہے حتیٰ کہ ایک پورے گھر کے برابر ہوجاتا ہے( اس لیے کہ ایسی بات سننے سے شیطان کو یہ خوش فہمی ہوجاتی ہے کہ اسے بھی ان امور میں دخل اندازی کی طاقت حاصل ہے) چناں چہ وہ کہتا ہے کہ میں نے اپنی قوت سے سواری کو پھسلایا۔ البتہ تم (ایسے موقع پر) بسم اللہ کہا کرو، کیوں کہ جب تم بسم اللہ کہتے ہو تو وہ (حقارت و ذلت کے مارے) چھوٹا ہوتا جاتا ہے حتیٰ کہ مکھی کی طرح چھوٹا یعنی پست و ذلیل) ہوجاتا ہے۔

امام ابنِ کثیر رحمہ اللہ نے تفسیر ابنِ کثیر میں حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت نقل کی ہے کہ جو شخص یہ چاہے کہ اللہ تعالیٰ اسے زبانیہ یعنی جہنم کے انیس (۱۹) فرشتوں سے نجات دے دیں تو اسے چاہیے کہ وہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھے (کیوں کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے حروف بھی انیس ہیں) پس اللہ تعالیٰ ہر حرف کے عوض اس کے لیے ہر فرشتے سے بچاؤ کے واسطے ایک ڈھال بنادیں گے۔