ہاں میں منہ بولی ریاستِ مدینہ کا شہری ہوں……………از قلم………….. عدنان عارف لاہور

ہاں میں منہ بولی ریاستِ مدینہ کا شہری ہوں……………از قلم………….. عدنان عارف لاہور
ایک ایسی ریاست جسکو اگر تخیُل کی گہرائی میں غوطہ زن ہو کر حکامِ بالا کی تقاریر و تسلیوں کے پیشِ نظر دیکھا جائے تو اس قدر رشک و فخر والی کیفیت طاری ہوتی ہے کہ کیا کہئیے۔ لیکن جب اوراقِ ایام کو پلٹا جاتا ہے تو منہ بولی ریاستِ مدینہ کے حکام کے ناروا رویوں اور غیر ذمہ دارانہ کار ناموں کی بدولت ظلم و جبر کی چکی میں پستے ہوۓ مظلوموں کی آہیں دل و دماغ پر اس قدر اثر انداز ہوتی ہیں کہ جس کو دیکھنے اور سننے کے بعد ہر آنکھ اشکبار، ہر دل رنجور اور ہر کان الاماں کا نعرہ لگانے پر مجبور ہو جائیں۔ موجودہ ایام میں سلطنت کے نام نہاد حکام کی کارکردگی سے متاثر رعایا کو پیش آنے والی مشکلات کو ٹٹولا جائے تو ہمیں وہ ملتان کی رہائشی بے سہارہ ماں کی چیخ و پکار بھی سنائی دے گی جو چار بچیوں کی واحد کفیلہ ہے جس کے کچے مکان کی درودیوار کا نقشہ حکومتِ وقت کی آنکھ بھانے سے گریزاں ہے اور اسی حکومت کے پاٶں تلے اسکی چار دیواری کو روند دیا جاتا ہے۔ ہے کوئی ریاست کا ٹھیکیدار جو اس لاچار اور بے یار و مددگار اور مظلومہ عورت کو انصاف دلا کر اسکے ساتھ ساتھ اسکی بچیوں کا بھی سہارا بن سکے؟ یہ سوالیہ نشان کبھی ختم نہ ہوگا کیونکہ میرے ملک کے نگہبان تو اپنی تجوری کی فکر میں مستغرق نظر آتے ہیں۔
اسی طرح اگر سانحہ ساہیوال کی طرف نگاہ کی جائے تو ان یتیم بچوں کی سسکیاں سُن کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے کاشؔ کہ میری قوم کا حکمران جاگ رہا ہوتا تو ان بچوں کی آہ و بکا پر ضرور ردعمل ہو پاتا۔ کہ کس طرح ان بچوں کے والدین کو موت کے گھاٹ اتار کر ابدی نیند سُلا دیا گیا اور محض اسی سفاکیت پر اکتفاء نہ کیا گیا بلکہ تذلذل کے پیکر اور یزیدیت کے پیرو کار ان اہلکاروں کی مال کی طرف دیکھ کر بھی رال ٹپک آتی ہے بقول ان بچوں کے٫ ماں اور ہمشیرہ کے زیورات کو نوچا گیا اور یزیدیت کی نئی مثال قائم کردی گئی۔ اگر سوچا جاۓ کہ وہ منظر کیسا ہوگا تو یقیناً ہر شخص خوف اور وحشت کے سمندر میں غرق ہو کر آبدیدہ ہو جائے لیکن یہ سوتے ہوئے عقل و فہم سے عاری اور انسانیت کے سوداگر حکام سوتے میں جھوٹے بیانات اور کھوکھلے وعدوں کے پیشِ نظر لوگوں کے جذبات سے آنکھ مچولی کھیلتے دکھائی دیتے ہیں۔
انصاف مہیا کرنے والے نام نہاد اداروں کی کار کردگی کی بات کی جائے تو افسران کا فقط پیپر ورک پہ اکتفاء کرنا انکی بد دیانتی اور نا اہلی کی دلیل ہے۔ کتنے افسوس اور دانت پیسنے والا مرحلہ ہیکہ مقتولین کے لواحقین انصاف کے لیے کس قدر ترس گئے ہیں کہ انصاف کے نام پر بنی اس سلطنت کے دورِ حکومت میں انھیں انصاف مانگنے اپنی حسرت و خواہش کا کٹورا لیے سڑکوں پہ نکلنا پڑتا ہے۔
یا خدا!!! کیا اس نگری میں ایسا کوئی نہیں جسکا کلیجہ ان معصوموں کی آہوں سے پھٹا جا رہا ہو؟ اور انکو انصاف دلانے کی سعی کرنے میں دن رات کا فرق بھول جائے۔۔۔
اللہ!!!! ریاست مدینہ میں بھی کبھی ایسا ہوا تھا کہ کوئی اس قدر انصاف کو ترسا ہو؟
یہ بات سمجھ سے بالکل بالا تر ہیکہ حکومتِ وقت کے پاس اس قدر مواصلات و ذرائع ہونے کے با وجود ظالم کی نشاندہی ناممکن ہو۔ یہ تو محض ایک چکرویو ہے جسکی دلدل میں مظلوم کی آواز کو کچھ روپے کے عوض دبانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔
اب تو حالت بایں جا رسید کہ عوام کو بے دردی سے قتل کر کہ اپنی صفائی کا پیش خیمہ کرتے ہوئے انھیں کو دہشگردی کا غلیظ ترین میڈل پہنا دیا جاتا ہے۔

ہر قتل کے بعد مجھ سےاب رویا نہیں جاتا،
اب لفظ مذمت بھی شرمسار ہے لوگو!

دریں اثناء رعایا اپنی گاڑیوں کے پیچھے لکھوانے پر مجبور ہو گئی کہ

We are not terrorists. Please don’t kill us.

یقیناً یہ ملک کے محافظوں کا خوف ہے ۔ حکومت کے ذمہ ہے کہ اس پلیدی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے اور عوام کو پر امن ریاست مُہیہ کرے جو حقیقی معنوں میں ریاستِ مدینہ کی عکاسی کرتی ہو جہاں رعایا وطن کے محافظوں سے ڈرنے کی بجائے ان کے دیکھ کر امن محسوس کرے۔