ملفوظاتِ عارف …………. عمران خان کے نام اہم پیغام …………. عدنان عارف لاہور

ملفوظاتِ عارف …………. عمران خان کے نام اہم پیغام …………. عدنان عارف لاہور
خان صاحب اس ملک میں آمر بھی تھے سیاست دان بھی. ایک کے پاس طاقت کا ڈنڈا تھا دوسرے کے پاس باتوں وعدوں کے قصے. آپ نہ آمر تھے نہ سیاستدان. آپ کو قوم ہیرو سمجھتی تھی. ہیرو تسلیم کرتی تھی. ہیرو وہ ہوتا ہے جو مایوسی سے جیت چھین کر لے آئے. جو نا اُمیدی میں اُمید تراشے جو نا ممکن کو ممکن بنانے کی کوشش کرے. آپ کرکٹر تھے. ہم نے آپ کو ہار نہ ماننے کی اس ضد پر ہیرو تسلیم کیا تھا.
آپ سیاست میں آئے. ہماری وہ نسل جن کا بچپن آپ کو ہیرو مانتے گزرا ان کی جوانی آپ کو ہیرو منواتے گزری ہے. آپ سیاستدان نہ تھے. آپ ہیرو تھے. اس لئے ہر سیاسی غلطی پر ہم آپ کی غلطی کو اپنا بوجھ سمجھ کر ان کی تاویلات کرتے رہے. ہم اپنے دل کو یہ تسلی دیتے تھے کہ خان صاحب سیاستدان تھوڑی ہیں. یہ تو ہیرو ہیں. ہیرو کو کسی طرح اس نا امید ہاری ہوئی ٹیم کا کپتان بنادو بس پھر جیت ہماری ہے.
خان صاحب اسی خواب میں ہم نے مذاق سہا دن رات محنت کی. ہر فرم پر آپکا دفاع کیا. جب سیاستدان فری کی بسیں اور کھانے سے اپنے جلسے جلوس آباد نہیں کر سکتے تھے ہم نے آپ کا ہر میدان بھر دیا. ہر سڑک پر نکلے. اپنی جیبوں سے خرچ کیا. اپنا وقت خرچ کیا. کہ آپ اس ٹیم کے کپتان بن جائیں.
خدارا خان صاحب!! سیاستدانوں کی طرح ہمیں باتوں سے نہ بہلائیں. ان آزمودہ دو ٹکے کے ترجمانوں کی باتوں کے نشتروں سے ہمارا ضبط نہ آزمائیں. ان ترجمانوں کو اپنی زبان اپنی پہچان نہ دیں. ان کی اتنی اوقات نہیں. آپ ہمارے ہیرو ہیں. ہیرو بن کر دکھائیں. آپ کوشش میں ناکام ہوئے ہم آپ کی ناکامی کا بوجھ بار بار اٹھائیں گے. لیکن اگر آپ نے سیاستدان کی طرح ہمیں باتوں سے بہلانا ہے تو اس مروج سیاست پر ہمیں کوئی اعتبار نہیں. سیاست کے زیرو ہو اپنی پہچان نہ بنائیں ورنہ کل آپ تنہا ہوں گے. ہمارے اور آپ کے درمیان ان مظلوم بچوں نے دیوار کھڑی کردی ہے. اگر آپ ہیرو ہیں تو یہ دیوار گرا دیں.
ورنہ آپ میری قوم کے جذبات کو مجروح کر کے یہ ہرگز توقع مت رکھیے گا کہ رعایا اس رنجور کُن سفاکیت کے بعد بھی ہاتھ دھرے بیٹھی رہے گی یا آپکی طرف داری پر جمود بٹھاۓ رکھے گی۔
آپ نہیں جانتے کہ میری قوم کو حق و باطل میں تمیز کرنا بخوبی آتا ہے ۔ یہ مت سمجھیے کہ یہ عوام لمبی تان کہ سوتی رہے گی اور بھیڑیے کے لباس میں ملبوس حکومتی کارندے آپکے حکم پر یوں بے گناہ اور معصوم لوگوں کی زندگیاں نگلتے رہیں گے۔
مت بھولیے کہ آپکی حکومت کے گِرد جو وزراء کی شکل میں تانتا بندھا نظر آتا ہے وہ میری قوم کے سپورٹ کے بغیر ہیچ نہ تھا۔ یہ قوم جس نے اپنے جذبات کی لَے میں آکر آپ کو یہ جاہ و مرتبہ دے کر اس آسمان کی بلندی پر بٹھایا ہے بلکل اسی لَے میں آپکو زمین پر پٹخ کے مارے گی کہ آپکو اپنی اوقات یاد آ جاۓگی۔
ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں آپ؛ آپ نہیں جانتے کہ ریاست مدینہ کا اولین مقصد معاشرے میں امن پسندی تھا اور قطع نظر اس سے کہ معاشرہ مسلم ہے یا نان مسلم ۔۔ آپؐ نے اور آپکے بعد آپکے اصحابؓ نے بھی جزیہ لیکر کفارِ عرب ٫ یہودیوں اور حتٰی کہ مشرک مجوسیوں کو بھی امن کا سرٹیفیکیٹ دیا ہے تو پھر یہ آپکی کیسی ریاستِ مدینہ کی ترجمان ریاست ہے جہاں ایک غلیظ کافر ٫ یہودی یا مجوسی کو نہیں بلکہ سچے جذبات کی عکاسی کرنے والے مسلمانوں کو ظلم کی چکی میں پیسا جاتا ہے اور آپ کی حکومت انکو دہشت گردی کے میڈل سے نوازتی نظر آتی ہے؟
مدینہ کی ریاست تو وہ تھی جب حکمران اپنی کمر پے راشن کی بوری رکھ کر مستحقین تک پہنچاتے دکھائی دیتے ہیں اورایک آپکی ریاست ہے جہاں کمر پربوجھ اٹھانا تو ایک طرف٫ آپکی حکومت نے تو بوجھ لاد لاد کر غریب کی کمر ہی توڑ دی ہے۔ لگتا ہے آپکی تبدیلی کے نعرے نے ریاست مدینہ کے مطالب اور مقاصد کو بھی تبدیلی کی گنگا میں بہا دیا ہے۔
یاد رکھو کہ مظلوم کی آہ اور خدا کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا جسکی تصدیق حدیثِ رسولؐ کے علاوہ اقباؔل کے خیالات میں نظر آتی ہے وہ کہتے ہیں کہ:-
بات جو دل سے نکلتی ہے اثر رکھتی ہے۔
پر نہیں طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے۔
لہٰذا اللہ سے ڈرتے ہوئے اپنے فرائضِ منصبی کو پہچانیے اور قوم اور لواحقینِ سانحہ ساہیوال کو انصاف دلا کر اللہ کے دربار میں سرخرو ہو کر جائیے ۔اللہ آپکو اور ہم سب کو ہدایتِ کاملہ نصیب فرمائیں۔ اٰ مین۔