شام کے فوجی اڈے پر میزائل حملوں میں متعدد افراد ہلاک

شام کے فوجی اڈے پر میزائل حملوں میں متعدد افراد ہلاک

دمشق: شام کے فوجی اڈے پر میزائل حملوں کے نتیجے میں متعدد افراد کی ہلاکت اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
شامی سرکاری خبر ایجنسی کے مطابق حمس میں تیفور بیس پر کئی میزائل داغے گئے جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے۔
سرکاری خبر ایجنسی کی جانب سے حملے کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں تاہم ابتدائی طور پر حملے میں امریکا کے ملوث ہونے کا خدشہ ظاہر کیا اور بعدازاں بیان سے امریکا کا نام نکال دیا گیا۔
یاد رہے کہ ہفتے کے روز باغیوں کے زیرقبضہ علاقے دوما میں شامی فورسز کی جانب سے مبینہ طور پر زہریلی گیس سے حملہ کیا گیا جس میں 70 افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل تھی۔
شام میں باغیوں کے زیرقبضہ علاقے میں مبینہ کیمیائی حملہ، 70 افراد ہلاک
جس کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ اگر کیمیائی گیس کا حملہ ثابت ہوگیا تو شام کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔
شام اور روس نے دوما میں کیمیکل حملے کی تردید کی جب کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے شام کی صورتحال پر آج ہنگامی اجلاس کا امکان ہے۔
روسی فوج نے شامی فوجی اڈے پر بمباری کا الزام اسرائیل پر عائد کیا اور اپنے بیان میں کہا کہ 2 اسرائیلی طیاروں نے لبنان کی فضائی حدود استعمال کرتے ہوئے شامی فوجی اڈے پر 4 میزائل داغے تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب بعض لبنانی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق شامی شمال مشرقی سرحد کے قریب رہائش پذیر لوگوں نے پیر کی صبح فضائی حدود میں طیاروں کی آواز اور دھماکوں کی گونج سنی اور ممکنہ طور پر یہ کارروائی اسرائیل کی جانب سے کی گئی ہے۔
سینئر امریکی عہدیداروں نے شام میں سرکاری فوجی اڈے پر امریکی حملے کی تردید کی، پینٹاگون کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس مرتبہ امریکی محکمہ دفاع نے شام میں فضائی کارروائی نہیں کی تاہم صورتحال کو قریب سے دیکھا جارہا ہے جب کہ موجودہ سفارتی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل اپریل 2017 میں شام میں مبینہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بعد امریکا نے ٹام ہاک کروز میزائلوں سے شامی ایئربیس کو نشانہ بنایا تھا۔