جامعہ چترال میں باٹنی (نباتات) پر بین الاقوامی کانفرنس اختتام پذیر ہوا

جامعہ چترال میں باٹنی (نباتات) پر بین الاقوامی کانفرنس اختتام پذیر ہوا
چترال(نمائندہ نوائے چترال)جامعہ چترال میں باٹنی (نباتات) پر بین الاقوامی کانفرنس اختتام پذیر ہوا۔ اس کانفرنس کا مقصد چترال میں پائے جانے والے پودوں اور قدرتی ذحائیر کی دستاویزی تحفظ تھا۔ اختتامی تقریب کے دوران آزاد کشمیر یونیورسٹی سے آئے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر محمد شعیب امجد نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کانفرنس سے بہت مستفید ہوئے اور بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا کیونکہ اس میں ستر کے قریب ماہرین نے اپنے مقالہ جات پیش کئے۔ اس موقع پر انہوں نے چترال یونیورسٹی کے پراجیکٹ ڈئریکٹر کو مبارک باد پیش کی کہ صرف ایک سال کے عرصے میں اس نومولود یونیورسٹی نے یہ بین الاقوامی کانفرنس منعقد کیا جس میں چترال کے اندر پائے جانے والے پودوں اور قدرتی سائل کی تحفظ، دستاویز اور برقی طور پر اس کے بچاؤ اور استعمال کے بارے میں مقالہ جات پیش کئے گئے۔انہوں نے چترال کے لوگوں کا بے مثا ل مہمان نوازی کا بھی شکریہ ادا کیا اور وہ اس مہمان نوازی کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ اس موقع پر امریکہ یونیورسٹی سے آئے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر میری الزبتھ بارکورتھ نے اس کانفرنس پر انتہائی خوشی اور اس کی کامیابی پر اطمینان کا اظہار کیا انہوں نے کہا کہ اس قسم کے بین الاقوامی کانفرنس سے متعلقہ مضمون کے طلباء و طالبات اور تحقیق کاروں کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ نہایت خوشی کی بات ہے کہ چترال کا ماحول نہایت پر امن اور خوشگوار ہے اور بین الاقوامی تحقیق کار، طلباء یہاں آکر آسانی سے ان نباتات پر تحقیق کرسکتے ہیں۔ چترال یونیورسٹی کے پراجیکٹ ڈائیریکٹر پروفیسر ڈاکٹر بادشاہ منیر بحاری نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا بالحصوص ان غیر ملکی ماہرین کا جنہوں نے بہت لمبا سفر طے کرکے اس کانفرنس میں شرکت کرنے کیلئے چترال پہنچے۔ انہوں نے اس بات کا عظم کا کیا کہ وہ اس یونیورسٹی کی کامیابی کیلئے ہر ممکن کوشش کرے گا اور ان کی کوشش ہوگی کہ اگلے سال دوسرے موضوع پر اس قسم کا کانفرنس منعقد کرے۔ کانفرنس کے احتتام پر اس بین الاقوامی کانفرنس میں مقالہ جات پیش کرنے والوں تمام شرکاء کو ایورڈز اور اسناد دئے گئے۔ ایوارڈز پانے والوں میں ڈاکٹرمحمد رومان، مفتی فدا محمد، ڈاکٹر سراج الدین، ڈاکٹر محمد نثار ،ڈاکٹر میری الزبتھ بارکورتھ، ڈاکٹر ژانگ فاقی، ڈاکٹر رابعہ آسماء میمن، ڈاکٹر حیدر علی، ڈاکٹر طور جان، ڈاکٹر ظہور الحق، ڈاکٹر سراج احمد، مس پلوشہ، محمد لائق، ڈاکٹر محمد شعیب امجد، امین الرحمان، ڈاکٹر سمیرہ شاہ، ڈاکٹر رحمان اللہ، زاہد فضل، تاج یوسف خان، ڈاکٹر اجمل اقبال، ڈاکٹر فضل ہادی، ڈاکٹر سید مکرم شاہ، ڈاکٹر اسرار احمد، مس ہرا وہاب، ڈاکٹر امین اللہ جان، آصف رضا، منیجر ظہور الدین، امتیاز احمد وغیرہ شامل ہیں۔اس کانفرنس میں کثیر تعداد میں طلباء و طالبات نے شرکت کی۔